ابنا: اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مشترکہ اعلامیہ میں، 2013 میں سیکرٹری سطح مذاکرات پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ آئندہ دو طرفہ مذاکرات نئی دہلی میں ہونے پر اتفاق کیا گیا جس میں کشمیر سمیت تمام آٹھ نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کی جائے گی۔
اسکے ساتھ ہی دونوں ممالک نے سرحد کے دونوں جانب قید تمام ماہی گیروں کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے-
ادھر پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ نیوز کانفرنس میں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے پاک –ہند تعلقات میں آگے بڑھنے کے لیے عوامی رابطے بڑھانے کے ساتھ ساتھ، مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کو ماضی کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننا چاہیئے، دہشت گردی دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے، پاکستان ،ہندوستان کےساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتی ہے- ان کا کہنا تھا کہ آئندہ برس کے آغاز سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات معمول کی سطح پر آ جائیں گے۔ پاکستان کی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کشمیر، سرکریک اور سندھ طاس معاہدے پر مناسب عملدرآمد سمیت تمام مسائل حل کرنا ہوں گے۔
اس موقع پر ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے بھی کہا کہ دہشت گردی امن اور خوشحالی کے لیےخطرہ ہے، ہر قسم کی دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف تیز تر کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ایس ایم کرشنا نے مزید کہا کہ قابل حل امور پہلے اور پیچیدہ مسائل بعد میں حل کئے جائیں گے۔ سیاچن اور سر کریک کے مسئلوں پر مرحلہ وار پیشرفت چاہتے ہیں، منموہن سنگھ نے پاکستان آنے کیلئے کوئی شرط نہیں رکھی، وزیر اعظم منموہن سنگھ مناسب وقت پر پاکستان کا دورہ کریں گے۔
ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے مابین اس سے قبل آج صبح دفتر خارجہ میں ملاقات ہوئی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی زیر صدارت مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں تعلیم، صحت، ثقافت، ٹیلی کام اور دیگر شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے .
.....
/169